وسطی ہند آریائی: تعریف اور ارتقا
ہند آریائی کے ارتقا کا دوسرا دور وسطی ہند آریائی کہلاتا ہے۔ یہ دور ۵۰۰ قبل مسیح سے ۱۰۰۰ سنہ عیسوی پر محیط ہے۔ اس دور میں پراکرتیں پھلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ پراکرت کوئی علحیدہ زبان نہ تھی بلکہ در حقیقت ایک ایسی زبان تھی جو سنسکرت زبان میں تبدیلی کے باعث فطری طور پر ظہور پذیر ہوئی تھی، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ سنسکرت کی ہی کوکھ سے پیدا ہوئی تھی۔ لسانیات کا یہ عام اصول ہے کہ جب ایک زبان سمٹنے لگتی ہے تو اس کے بطن سے ایک نئی زبان وجود میں آتی ہے جو اس کی متغیرہ صورت ہوتی ہے۔ جب سنسکرت زبان کے تلفظ ، قواعداور نحوی ڈھانچے میں کافی حد تک تبدیلیاں رونماں ہوگئیں تو یہ زبان بالکل بدل گئی ۔ سنسکرت کی یہی بدلی ہوئی شکل پراکرت کہلائی ۔ یہ ایک سہل اور آسان زبان تھی ۔ اسی لیے عوام میں اسے بہت جلد مقبولیت مل گئی تھی اور سنسکرت طبقۂ اشراف کی زبان بن کر رہ گئی تھی۔ اسے تین ذیلی ادوار میں منقسم کیا گیا ہے ۔ مثلاً پہلی پراکرت ، دوسری پراکرت اور تیسری پراکرت ۔
پہلی پراکرت :
پہلی پراکرت کو ابتدائی پراکرت بھی کہتے ہیں ۔ اس کے زمانے کا تعین 500 سال قبل مسیح سے مولودِ عیسیٰ علیہ السلام کیا گیا ہے۔ پہلی پراکرت میں پالی اور اشوک کے کتبوں کی زبانوں کا شمار ہوتا ہے ۔ یہ دونوں پراکرت کی اولین شکلیں ہیں۔ پالی کے سب سے قدیم نمونے بدھ اور جین کی مذہبی کتابوں میں ملتے ہیں ۔ یہ بنیادی طور پر بہار کی زبان تھی ۔ ابتدائی پراکرت کی دوسری مشکل اشوک کے کتبوں کی زبان کے طور پر ہم تک پہنچی ہے ۔ اشوک نے اپنی پوری سلطنت کے مختلف علاقوں میں مہاتما بدھ کی تعلیمات اور اپنے سیاسی اصولوں نیز اپنی زندگی کے بعض واقعات کو پھتروں اور ستونوں پر کندہ کروایا تھا۔ کے کتبے تین طرح کی علاقائی بولیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اول، شمال مغربی جس کی نمائندگی شہباز گڑھی اور مین سیرا کے کتبے کرتے ہیں۔ دوم، جنوب مغربی بولی جس کی مائندگی گرنار اور کانسی کے کتبے کرتے ہیں۔ سوم، پراچیہ بولی جس کی نمائندگی سارناتھ اور دھولی کے کتبے کرتے ہیں۔یہ کتبے دو طرح کے رسومِ خط میں ملتے ہیں جن کو کھروشٹی اور براہمی کہا جاتا ہے۔ کھروشٹی رسم خط دائیں جانب سے بائیں جانب اور براہمی رسم خط بائیں جانب سے دائیں جانب لکھا جاتا تھا۔
دوسری پراکرت :
جب بہ حیثیت زبان پراکرت کا پورے طور پر ارتقا ہو چکا تو یہ ادبی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے لگی ۔ دوسری پراکرت اق م سے 500 ءپر محیط ہے۔دوسری پراکرت کو ادبی پراکرت بھی کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں ادبی پراکرتوں کی پانچ واضح شکلیں سامنے آتی ہیں جن کا مختصر تعارف مندرجہ ذیل ہے۔
1۔ شور سینی پراکرت :
یہ شور سین کے علاقے کی زبان تھی جس کا مرکز متھرا تھا۔ یہ اسی علاقے کی زبان تھی جو قدیم ہند آریائی دور میں مدھیہ دیشہ کہلاتا تھا۔ اسی وجہ سے یہ سنسکرت سے بہت زیادہ قریب تھی اور اور لسانی اعتبار سے اس سے بے حد متاثر تھی۔ سنسکرت کے بعد ا علیٰ طبقے میں اگر کسی پراکرت کا رواج تھا تو وہ یہی زبان تھی ۔
2۔ ماگدھی پراکرت :
یہ بنیادی طور پر مگدھ کے علاقے کی زبان تھی جو اب جنوبی بہار کا حصہ ہے۔ یہ علاقہ قدیم ہند آریائی دور کی پراچیہ بولی کا تھا جو آریوں کے تہذیبی مرکز سے کافی دور جا پڑا تھا۔ اس لیے اس پر غیر آریائی بولیوں کا شدید اثر ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آریا قوم اس زبان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی اور غیر مہذب زبان تصور کرتی تھی ۔ ماگدھی پراکرت میں /ر/ کی آواز مفقود تھی۔اس میں /ر/ کی آواز کو /ل/ کی آواز سے بدل دیا جاتا تھا۔
3۔ اردھ ماگدھی پراکرت :۔
یہ شور سینی پراکرت اور ماگدھی پراکرت کے درمیانی علاقے کی زبان تھی ۔ اس میں جین مذہب کی تعلیمات اور اشوک کی تعلیمات کا بھی پر چار ہوا ہے ۔ اس کا رواج اس زمانے کے شاہی خاندانوں میں بھی رہا۔ اس میں/ ر/اور/ ل/ دونوں آواز یں پائی جاتی تھیں لیکن سنسکرت کی /ش/ کی آواز /س/ کی آواز میں بدل جاتی تھی۔
4۔ مہاراشٹری پراکرت :
یہ مہاراشٹر کی زبان تھی اور تمام ادبی پراکرتوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تھی ۔ ماہرین لسانیات نے اسے "مثالی پراکرت ” کہا ہے ۔ یہ شاعری اور موسیقی کی زبان سمجھی جاتی تھی ۔ ڈراموں کے گیت اسی زبان میں ہوتی تھیں ۔اس دور کی بیشتر ادبی تصانیف اسی پراکرت میں ملتی ہیں۔
5۔ پیشا چی پراکرت :
یہ پنجاب اور کشمیر میں بولی جاتی تھی ۔ اس میں ادبی تصانیف کا فقدان تھا۔ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔ یہ زبان بول چال میں زیادہ استعمال ہوتی رہی جس کی وجہ سے اس میں کئی بولیوں کی ملاوٹ ہو گئی تھی، اس لیے سنسکرت کے علماء اسے بڑی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔
تیسری پراکرت :
ادبی پر کرتوں کے بعد اپ بھرنشوں کا ارتقا عمل میں آتا ہے۔ یہ وسطی ہند آریائی کے ارتقا کی تیسری اور آخری شکلیں ہیں۔اسی لیے اسے تیسری پراکرت بھی کہا جاتا ہے۔ اپ بھرنشوں کا ارتقا 500 تا 1000 پر محیط ہے ۔ جس طرح لسانی تبدیلی کے عمل سے سنسکرت سے پراکرت پیدا ہوئی تھی، اسی طرح پراکرت میں تبدیلی کے نتیجے میں اپ بھر نشیں تشکیل پذیر ہوئیں۔ جب دوسری پر ا کرتیں ادبی بن گئیں تو ان کا ارتقا مختلف نہج پر ہونے لگا لیکن عوام سے ان کا رشتہ ٹوٹتا چلا گیا، چنانچہ یہ عوام سے الگ تھلگ ہو گئیں ۔ عوام نے پراکرت کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر اور ان کی شکلیں بگاڑ کر بولنا شروع کر دیا۔ یہی ٹوٹی پھوٹی اور بگڑی ہوئی زبان اپ بھرنش کہلائی ۔ چوں کہ اپ بھرنشیں پراکرت سے پیدا ہوئی ہیں، اس لیے جہاں جہاں پر پر ا کرتیں بولی جاتی تھیں انھیں علاقوں میں اپ بھر نشیں معروضِ وجود میں آگئیں ۔ بیشتر ماہرینِ لسانیات نے اس کی مندرجہ ذیل پانچ قسمیں بیان کی ہیں ۔
1۔ شور سینی اپ بھرنش : یہ اپ بھرنش شور مینی پراکرت سے نکلی ہے ۔ اس کا علاقہ وہی ہے جو شور مینی پراکرت کا تھا۔
2۔ ما گدھی اپ بھرنش : اس کا ارتقا ما گدھی اپ بھرنش سے ہوا ہے۔ اس کا چلن مشرق کے ایک وسیع خطے میں یعنی بنگال ، آسام، اڑیسہ اور بہار کے علاقے شامل ہے۔ ان علاقوں کی جدید زبانیں یعنی ، آسامی، اُڈیہ اور بہار کی تقریباً تمام بولیاں اس اپ بھرنش سےنکلی ہیں۔
3۔ اردما گدھی اپ بھرنش:۔ یہ شور بینی اور ماگدھی اپ بھرنش کے درمیانی علاقے میں رائج تھی ۔ اس سے مشرقی ہند کی بولیاں آئیں ،یعنی اودھی، بگھیلی اور چھتیس گڑھی وغیرہ۔
4۔ مہارا شٹری اپ بھرنش : اس کا ارتقا مہا راشٹری پراکرت سے ہوا۔ یہ مہاراشٹر کے علاقے کی زبان تھی۔ اس کے بطن سے موجودہ مراٹھی زبان کا ارتقا ہوا ۔
5۔ شمال مغربی اپ بھرنش : یہ دو حصوں میں منقسم ہیں :
الف۔ بڑا چڈاپ بھرنش : اس کا ارتقا سندھ کے علاقے میں ہوا ور اس سے موجودہ سندھی زبان پیدا ہوئی ۔
ب۔ کیکیئی اپ بھر نش: اس سے مغربی پنجابی پیدا ہوئی جسے لہندابھی کہتے ہیں۔
1000 ء تک پہنچتے پہنچتے اپ بھر نشوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ان کی جگہ پورے شمالی ہندوستان میں مغرب سے مشرق بھانت بھانت کی زبانیں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ یہیں سے وسطی ہند آریائی دور کا خاتمہ ہو جاتا ہےاور جدید ہند آریائی کا آغاز ہوتا ہے۔
حوالہ جات
اردو کی لسانی تشکیل از مرزا خلیل احمد بیگ
لسانی مطالعے از گیان چند جین
نوٹ
یہ نوٹ معیاری اردو فاؤنڈیشن کے زیرِ انصرام بالخصوص اسلامپور کالج کے نصاب کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال کے لیے 12 نشانات مختص ہوتے ہیں۔ اسے دیگر کالج اور یونیورسیٹی کے بی اے اور ایم اے کے طلبا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لیے آپ ہماری ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے کے لیے کانٹیکٹ فارم بھریں۔ شکریہ
آپ آسان وضاحت اور مزید معلومات کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل اور فیس بک سے بھی جڑ سکتے ہیں
- وسطی ہند آریائی: تعریف اور ارتقا
- قدیم ہند آریائی کی تعریف اور آغاز و ارتقا
- ہند آریائی کی تعریف اور ارتقا
- علامہ رضا علی وحشتؔ کلکتوی کی غزل
- اردو زبان کی خصوصیات


Post Comment