ہند آریائی کی تعریف اور ارتقا
آریا قوم وسط ایشیا سے نقل مکانی کرکے 1500 قبل مسیح میں ہندوستان کے شمالی خطہ میں وارد ہوئے۔ رفتہ رفتہ یہ لوگ یہاں سے مشرق کی جانب بڑھتے گئے اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی رہن سہن کے ساتھ ساتھ ان کی زبان میں بھی تبدیلی واقع ہوتی گئی۔ آریہ جب ہندوستان میں داخل ہوئے تھے تو ان کی زبان پر ایران میں بولی جانے والی زبان کا بہت گہرا اثر تھا جسے ایرانی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان آنے پر ان لوگوں کی زبان بدلنے لگی اور اس نے دھیرے دھیرے ایک نئی شکل اختیار کر لی یعنی ایرانی سے ہند آریائی سانچے میں ڈھل گئی ۔ہند آریائی کے ارتقاء کو عموماً تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہیں:
1۔ قدیم ہند آریائی
2۔ وسطی ہند آریائی
قدیم ہند آریائی:-
ہند آریائی کا قدیم دور ایک ہزار سال پر محیط ہے یعنی 1500 قبل مسیح سے 500 قبل مسیح تک۔ یہ دور آریوں کی قدیم زبان سنسکرت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس دور کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ (الف) ویدک سنسکرت (ب) کلاسیکی سنسکرت
ویدک سنسکرت: –
سنسکرت کی قدیم شکل کو ویدک سنسکرت کہا جاتا ہے۔ ویدک سنسکرت 1500 قبل مسیح سے 1000 قبل مسیح پر محیط ہے۔ چونکہ اس زمانے کے سب سے قدیم کلام ویدوں میں ملتے ہیں اسی لیے اسے بہت بعد میں ویدک سنسکرت کا نام دیا گیا۔
کلاسیکی سنسکرت:
ویدک سنسکرت کے بعد اس زبان کی دوسری شکل کا ارتقا عمل میں آیا۔ اس زبان میں جب ادبی تصانیف کا سلسلہ شروع ہواتو اسے کلاسیکی سنسکرت کہا گیا۔ رامائن اور مہابھارت اس دور کی عمدہ مثالیں ہیں۔ یہ دور 1000 قبل مسیح سے 500 قبل مسیح پر محیط ہے۔
شمالی ہندوستان میں مغرب تا مشرق پورے ایک ہزار سال تک اس زبان کا چلن قایم رہا۔پھر اس میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں یہاں تک کہ 500 قبل مسیح کے قریب پوری طرح سے سمٹ کر رہ گئی اور اس کی آسان شکل کو پراکرت کہا گیا۔ اس زبان کے خاتمے کے ساتھ ہی قدیم ہند آریائی دور بھی ختم ہو جاتا ہے۔

2۔ وسطی ہند آریائی
وسطی ہند آریائی کا ارتقاء 500 قبل مسیح سے 1000ء پر محیط ہے۔ اس دور میں پراکرتیں پھلتی پھولتی اور ختم ہو جاتی ہیں۔ اس دور کو تین ذیلی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہےجسے (1) پہلی پراکرت، (2) دوسری پراکرت اور (3) تیسری پراکرت کہا جاتا ہے۔
پہلی پراکرت:
پہلی پراکرت کو ابتدائی پراکرت بھی کہتے ہیں۔ اس کے زمانے کا تعین 500 قبل مسیح سے عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش تک کیا جاتا ہے۔ پہلی پراکرت میں پالی اور اشوک کے کتبوں کی زبان کا شمار ہوتا ہے۔
دوسری پراکرت:
دوسری پراکرت کو ادبی پراکرت بھی کہا جاتا ہے۔ جب بحیثیتِ زبان پراکرت کا پورے طور پر ارتقاء ہو چکا تو یہ ادبی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے لگی اور پھر اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو سنسکرت کے ساتھ ہوتھایعنی یہ بھی بگڑ تی چلی گئی۔ادبی پراکرتیں تقریباً 500 سال تک مغرب سے مشرق تک پھلتی پھولتی ہے اور سمٹ کر رہ جاتی ہے۔500 ء تک پہنچتے پہنچتے ان کا ارتقا رک جاتا ہےاور ان کی جگہ اپ بھرنشیں لینے لگتی ہیں ۔ماہرینِ لسانیات نے ادبی پراکرتوں کی حسبِ ذیل پانچ قسمیں بیان کی ہیں:
1۔ شورسینی پراکرت: یہ پراکرت اسی علاقے کی زبان تھی جہاں قدیم ہند آریائی دور میں مدھیہ دیشہ کہلاتا تھا۔(موجودہ اترپردیش اورمدھیہ پردیش)اسی وجہ سے یہ سنسکرت سے بہت زیادہ قریب تھی۔
2۔ ماگدھی پراکرت: یہ بنیادی طور پر مگدھ کےعلاقے کی زبان تھی۔ یہ علاقہ قدیم ہند آریائی دور کی پراچیہ بولی کا تھا جو آریوں کے تہذیبی مرکز سے کافی دور جا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماگدھی پراکرت کو غیر مہذب بولی تسلیم کیا جاتا تھا۔
3۔ اردھ ماگدھی پراکرت: اس کا علاقہ شورسینی اور ماگدھی پراکرت کے درمیان کا علاقہ تھا ۔
4۔ مہاراشتری پراکرت: یہ پراکرت مہاراشتر کی زبان تھی اور تمام ادبی پراکرتوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تھی۔
5۔ پساچی ہراکرت: یہ پنجاب اور کشمیر میں بولی جاتی تھی۔
تیسری پراکرت:
جب ان پراکرتوں میں ادب تخلیق ہونے لگا تو سنسکرت کی طرح پراکرت کی بھی بگڑی ہوئی شکلیں وجود میں آگئیں جسے اپ بھرنش کہا گیا۔ اپ بھرنش کے لفظی معنی بگڑی ہوئی کے ہیں۔ یعنی وہ بولیاں جوان پڑھ اور گنوار لوگ استعمال کرتے تھے۔ اپ بھرنشوں کا ارتقاء 500ء سے 1000ء تک ہوتا ہے اور پھر 1000ء کے قریب یہ اپ بھرنشیں بھی ادبی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔لہذا یہیں سے وسطی ہند آریائی دور کا خاتمہ ہوجاتا ہےاور یہیں سے جدید ہند آریائی کا آغاز ہوتا ہے۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق ان کی مندرجہ ذیل پانچ قسمیں ہیں:
1۔ شورسینی اپ بھرنش
2۔ ماگدھی اپ بھرنش
3۔ اردھ ماگدھی اپ بھرنش
4۔ مہاراشتری اپ بھرنش
5۔ شمال مغربی اپ بھرنش
چوں کہ ان اپ بھرنشوں کا ماخذ پراکرتیں تھیں اسی لیے ان کا علاقہ بھی وہی ہے جو ان پراکرتوں کا تھا۔
جدید ہند آریائی
جدید ہند آریائی زبانوں کی ابتدا 1000ء سے ہوتی ہے اور یہی دور آج تک قایم ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں جدید ہند آریائی زبانوں کی گروہ بندی اس طرح کی گئی ہے۔
شمال مغربی ہندوستان کی زبانیں
مثلاً لہندا اور سندھی
جنوبی ہندوستان کی زبانیں
مثلاً مراٹھی
مشرقی ہندوستان کی زبانیں
مثلاً آسامی، بنگالی، اڑیا، بہاری،
مشقی ہندوستان کی زبانوں سے گہرا رشتہ رکھنے والی زبان
مثلاً مشرقی ہندی ( اس کے تحت بگھیلی، اودھی اور چھتیس گڑھی آتی ہیں)
مدھیہ دیش کی زبان
مثلاً مغربی ہندی ( اس کے تحت کل پانچ بولیں آتی ہیں جو کہ بے انتہاں اہم ہیں ۔ وہ بولیں ہیں کھڑی بولی، ہریانوی، برج بھاشا، قنوجی اور بندیلی)
مدھیہ دیش کی زبان سے گہرا رشتہ رکھنے والی زبان
مثلاً 1۔ پہاڑی بولیاں 2۔ گجراتی 3۔ راجستھانی۔ 4۔ پنجابی
حولہ جات
اردو کی لسانی تشکیل- مرزا خلیل احمد بیگ
نوٹ: کھڑی بولی مزید دو حصوں میں بٹ جاتی ہیں جو اردو اور ہندی کہلاتی ہے۔ گویا اردو کا تعلق 1500 قبل مسیح میں موجود سنسکرت سے ہے۔ یہ زبان یہیں پیدا ہوئی ہے اور اس کے ارتقا کا باقائدہ مرحلہ ہے۔ لہذا جس طرح ہندی ہندوستانی زبان ہے ٹھیک اسی طرح اردو بھی ایک خالص ہندوستانی زبان ہے۔
یہ نوٹ معیاری اردو فاؤنڈیشن کے زیرِ انصرام بالخصوص اسلامپور کالج کے نصاب کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال کے لیے 12 نشانات مختص ہوتے ہیں۔ اسے دیگر کالج اور یونیورسیٹی کے بی اے اور ایم اے کے طلبا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لیے آپ ہماری ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے کے لیے کانٹیکٹ فارم بھریں۔ شکریہ
/
آپ آسان وضاحت اور مزید معلومات کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل سے بھی جڑ سکتے ہیں
آپ ہمیں فیس بک پر بھی فالو کر سکتے ہیں
- وسطی ہند آریائی: تعریف اور ارتقا
- قدیم ہند آریائی کی تعریف اور آغاز و ارتقا
- ہند آریائی کی تعریف اور ارتقا
- علامہ رضا علی وحشتؔ کلکتوی کی غزل
- اردو زبان کی خصوصیات



1 comment