اردو کے آغاز کے حوالے سے اہم نظریات
نوٹ؛- اس پوسٹ کو بی اے اور ایم اے کی نصابی امتحان کو ملحوظ رکھ کر تحریر کیا گیا ہے۔ تنقیدی مطالعے کے لیے آپ حوالہ جاتی کتب کو پڑھ سکتے ہیں۔
اردو کے آغاز سے متعلق گزشتہ دو سو برسوں کے دوران میں ہمارے متعدد علما، محققین اور ماہرین لسانیات نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بعض علماء نے محض قیاس آرائی سے کام لیا، لیکن ایسے ماہرین لسانیات بھی گزرے ہیں جنہوں نے جدید تحقیق اور لسانی نقطۂ نظر سے اس مسئلے پر غور کیا ہے اوریہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اردو کب کہاں اور کیسے پیدا ہوئی؟اردو کے آغاز و ارتقا کے متعلق نظریات کا سلسلہ بے حد طویل ہے۔ لہذااس تحریر میں چند مشہور و مقبول اور اہم نظریات کو سرسری طور پرپیش کر رہا ہوں۔اردو کب کہاں اور کیسے پیدا ہوئی اس حوالے سے باقاعدہ نظریات کا سلسلہ انیسویں صدی سے شروع ہوتا ہے۔
دورِ شاہ جہاں کا نظریہ
اس ضمن میں سب سے پہلا نام میر امن دہلوی کا ہے جنہوںنے فورٹ ولیم کالج کی ملازمت کے دوران میں ”باغ و بہار“ لکھی اور اس کے دیباچہ میں اردو کی ابتدا عہدِ اکبری سے منسوب کی ہے اور اردو زبان کو ایک مخلوط زبان قرار دیا۔ میر امن کا یہ نظریہ ایک عرصہ تک چرچا میں رہا اور اسی سے متاثر ہو کر سر سید احمد خان اور سید احمد دہلوی وغیرہ نے اردو کو شاہ جہاں کی دور کی پیداوار قرار دیا ہے۔
برج بھاشا کا نظریہ
می امن کے بعد محمد حسین آزاد کا یہ نظریہ بہت مشہور ہوا کہ اردو برج بھاشا سے نکلی ہے۔ آزاد نے اپنی شاہکار تصنیف ’’آبِ حیات‘‘ میں لکھا ہے:
’’اتنی بات پر شخص جانتا ہے کہ ہماری زبان اردو برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا ہندوستانی زبان ہے۔‘‘
سندھ کا نظریہ
بیسویں صدی کے نصف اول میں سید سلیمان ندوی نے اپنی تصنیف ’’نقوشِ سلیمانی‘‘ میں اردو کی جائے پیدائش وادی ٔسندھ کو قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچتے ہیں، اس لیے قرین قیاس یہی ہےکہ جس کو آج ہم اردو کہتے ہیں اس کا ہیولیٰ وادیٔ سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔“
نظریۂ پنجاب
اسی زمانے کے آس پاس حافظ محمود شیرانی کی تصنیف ’’پنجاب میں اردو‘‘ (1928) منظر عام پر آتی ہے جس میں وہ اردو کو سرزمین ِپنجاب کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ اس کا آغاز عہد غزنوی بتاتے ہیں۔ انہیں خیالات کا اظہار شیر علی خاںسرخوش نے ’’اعجازِ سخن ‘‘ اور سید محی الدین قادری زور نے ’’ہندوستانی صوتیات‘‘ اور ” ہندوستانی لسانیات“ میں کیا ہے۔
دکن کا نظریہ
نصیرالدین ہاشمی نے اپنی تصنیف ’’دکن میں اردو‘‘ (1923) میں اردو کی جائے پیدائش دکن کو مانا ہے۔ عبدالقادر سروری نے ” زبان اور علمِ زبان “ میں ملتان یعنی سندھ اور پنجاب کی سرزمین کو اردو کا وطن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردوعربوں ترکوں اور ایرانیوں کے اہلِ پنجاب اور اہلِ سندھ کے ساتھ لسانی اخطلات کے نریجے میں پیدا ہونے والی ایک مکلوط زبان ہے۔ پنڈت برج موہن دت ا تریہ کیفی اور جمیل جالبی نے بھی اردو کی جائے پیدائش ملتان اور آغاز محمد بن قاسم سے منسوب کرتے ہیں۔
دہلی کا نظریہ
پروفیسر مسعود حسین خان اردو لسانیات کے چوٹی کے ماہر ہیں جن کی پیش کردہ نظریہ آغاز زبان اردو کو اب تک چیلنج نہیں کیا جا سکا ہے۔ان کی تحقیقی اور عالمانہ تخلیق ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو‘‘ (1948) میں اردو کے آغاز و ارتقا کا سب سے قابلِ قبول نظریہ پیش کرتی ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق اردو کی پیدائش دلی اور نواحِ دلی میں ہوئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’نواحِ دلی کی بولیاں ان کااصل منبع اور سر چشمہ ہیں اور حضرت دہلی اس کا صحیح مولد و منشا ہے۔“
کھڑی بولی کا نظریہ
شوکت سبزواری نے اپنی تصنیف ’’داستان زبان اردو‘‘ (1961) میں اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق اردو ہندوستانی یا کھڑی بولی سے ترقی پا کر بنی ہے۔ وہ کھڑی بولی اور ہندوستانی کو ایک ہی بولی تصور کرتے ہیں اور اردو کو اس کی ادبی شکل مانتے ہیں۔ وہ مغربی ہندی کے وجود کو نہیں مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اردو اور پراکرت کی درمیان کڑی اپبھرنش ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ؛
’’اردو کھڑی بولی سے ترقی پا کر بنی جس کی بابت عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ دہلی اور میرٹھ کے نواح میں بولی جاتی تھی۔‘‘
گیان چند جین بھی کھڑی بولی کو اردو کا مولد وو منشا قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنی تصنیف ’’ لسانی مطالعے ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اردو کا آغاز کھڑی بولی کا آغاز ہے۔ کھڑی بولی گیارہویں بارہویں صدی میں اس اپبھرنش سے ابھری جو دہلی میرٹھ اور مرادآباد وغیرہ کے علاقے میں بولی جاتی تھی۔
سہیل بخاری کا نظریہ
سیہل بخاری نے اپنی کتاب ’’اردو کا روپ‘‘ میں اردو کے ماخذ ، ابتدا اور نشو نما کے تمام ملمہ اصول و نظریوں اور حقائق کو باطل قرار دے کر ایک بالکل الگ نظریہ کی تشکیل کی۔ وہ فرماتے ہیں:
’’اردو سنسکرت سے الگ تھلگ اور آزادٹھیٹ ہندوستانی یا دراوری بولی ہے جو جنم جنم سے اس دیش میں بولی جارہی ہے۔“
مزید وضاحت کے لیے آپ اس ویڈیو کو دیکھیں
حوالہ جات
آبِ حیات از محمد حسین آزاد
نقوشِ سلیمانی از سید سلیمان ندوی
پنجاب میں اردو از حافظ محمود شیرانی
دکن میں اردو از نصیر الدین ہاشمی
مقدمۂ تاریخِ زبان اردو از مسعود حسین خان
داستانِ زبان اردو از شوکت سبزواری
اردو کا روپ از سہیل بخاری
Hind Aryai اردو اردو زبان، اردو کی خصوصیات، اردو کی تعریف، اردو کے بارے میں اردو زبان کی پیدائش کے نظریات اردو شاعری اردو غزل اردو کا آغاز و ارتقا اردو کی ابتدا اردو کی بہترین غزل اردو کی تاریخ اردو کی تاریخ، اردو کی کہانی، اردو زبان کی روایت، اردو اردو کی تاریخ، ہند آریائی ، قدیم ہند آریائی، اردو کی کہانی اردو کے متعلق اہم نظریات جدید ہند آریائی حافظ محمود شیرانی کا نظریہ علامہ رضا علی وحشت کلکتوی قدیم ہند آریائی لسانیات محمد حسین آزاد کا نظریہ مسعود حسین خان کا نظریہ وحشت کلکتوی کی غزل وسطی ہند آریائی ہند آریائی ہند آریائی کا ارتقا ہند آریائی کی تعریف


