مریضِ عشق اچھا ہے کہ اچھا ہو نہیں سکتا

Table of Contents

علامہ رضا علی وحشت کلکتوی کی غزل – مریضِ عشق اچھا ہے کہ اچھا ہو نہیں سکتا

اصل نام- علامہ رضا علی

ولادت- 18 نومبر 1888 کڑایا روڈ، کلکتہ

وفات- 20 جولائی 1956 ، ڈھاکہ

مٹے داغ ِ وفا دل سے ، گوارا ہو نہیں سکتا
مریضِ عشق اچھا ہے کہ اچھا ہو نہیں سکتا

ستم ہے تم رقیبوں سے نظر ملتے ہی کھل کھیلے
قیامت ہے میں سمجھا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا

خیال اس کو اسی کا ہے کہ رسوائی نہ ہوتیری
ترا دیوانہ ایسا ہے کہ رسوا ہو نہیں سکتا

عدو کہتا ہے وہ تجھ پر عنایت کر نہیں سکتے
جو چاہو بندہ پرور تم تو یہ کیا ہو نہیں سکتا

نمک افشانیاں پھر کیوں تبسم ہائے پنہاں کی
مرے زخمِ جگر کا مداوا ہو نہیں سکتا

یہ تو معلوم ہے پورا ہی ہوگا وصل کا وعدہ
مگر تم اس طرح کہتے ہو گویا ہو نہیں سکتا

نہ دیکھے کوئی یارب دوست کو دشمن کی صحبت میں
یہ ایسی سیر ہے جس کا تماشا ہو نہیں سکتا

چھپے بھی بیٹھے ہیں پردے میں نظارے بھی ہوتے ہیں
اٹھا بھی دو کہیں پردہ جو پردہ ہو نہیں سکتا

دلِ بے تاب کی خوں گستگی سے کھل گیا وحشتؔ
کہ شکرِ بے کسی ہائے تمنا ہو نہیں سکتا